ہنگام نزع محو ہوں تیرے خیال کا

حیدر علی آتش

ہنگام نزع محو ہوں تیرے خیال کا

حیدر علی آتش

MORE BYحیدر علی آتش

    ہنگام نزع محو ہوں تیرے خیال کا

    مشتاق ہوں فرشتۂ صاحب جمال کا

    پیراہن اس جواں نے جو پہنا ہے چھال کا

    ملتا نہیں چمن میں مزاج اک نہال کا

    آلودہ بے گناہوں کے خوں سے ہے تیغ چرخ

    نا فہموں کو گماں ہے شفق میں ہلال کا

    شانہ بنیں گے بعد فنا اپنے استخواں

    عقدہ کھلے گا گیسوؤں کے بال بال کا

    بینی سہیل مشتری و زہرہ گوش ہیں

    قطب شمال حسن ہے تل تیرے گال کا

    کس کس بشر کو لائی ہے دنیا فریب میں

    کیا کیا جواں مرید ہے اس پیر زال کا

    لاتی ہے واں قضا و قدر مرغ روح کو

    پانی جہاں قفس کا ہے دانہ ہے جال کا

    امرد پرست ہے تو گلستاں کی سیر کر

    ہر نونہال رشک ہے یاں خورد سال کا

    اک دم میں جا ملوں گا عزیزان رفتہ سے

    کیا عرصہ ہے زمانۂ ماضی سے حال کا

    سرخ و سفید رنگ سے ہوتا ہے آشکار

    وہ جسم نازنیں ہے عبیر و گلال کا

    اے دل قضا نہ آئے ادھر ٹکٹکی نہ باندھ

    گولی کا سامنا ہے یہ نظارہ خال کا

    بوسہ دیئے سے حسن میں ہوگی کمی نہ یار

    ہوتا نہیں زکوٰۃ سے نقصان مال کا

    وہ چشم ہی نہیں دل وحشی کی فکر میں

    ہر ترک کو ہے شوق شکار غزال کا

    زنجیر و طوق ہر برس آ کر پنہا گئی

    دیوانہ ہوں میں باد بہاری کی چال کا

    روز سیاہ ہجر میں میرے جلے چراغ

    پروانوں کو نصیب ہوا دن وصال کا

    رونے کے بدلے حال پر اپنے ہنسا کئے

    پردہ ہوا نہ فاش ہمارے ملال کا

    دکھلایا بے نقاب جسے بندہ ہو گیا

    وہ روئے سادہ نقش ہے صاحب کمال کا

    کرتی ہے یاں زبان کمر یار میں کلام

    معدوم ہے جواب ہمارے سوال کا

    آتشؔ لحد سے اٹھوں گا کہتا یہ روز حشر

    مشتاق ہوں میں یار کے حسن و جمال کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY