ہنسی میں ٹال رہے ہو تم اس کے رونے کو

محمد اعظم

ہنسی میں ٹال رہے ہو تم اس کے رونے کو

محمد اعظم

MORE BY محمد اعظم

    ہنسی میں ٹال رہے ہو تم اس کے رونے کو

    نہ دیکھتا ہو وہ ہونے سے پہلے ہونے کو

    سلام بھوک کو ان کی کرو جنہوں نے کبھی

    بچائے رکھا تھا تھوڑا اناج بونے کو

    دئے گئے ہیں خزانے انہی کو عہد بہ عہد

    رہا تھا کچھ بھی نہیں جن کے پاس کھونے کو

    غلط نہیں کہ لگاتی ہیں پار موجیں بھی

    جو جانتی ہیں فقط ڈوبنے ڈبونے کو

    بکھرنا یہ ہے کہ مایوس لوٹ جاتی ہے

    جو رات آتی ہے مجھ میں مجھے سمونے کو

    جو آج دیکھو تو بیٹھے ہیں نیل کنٹھ بنے

    گئے تھے ہم بھی سمندر کبھی بلونے کو

    پتہ چلا کہ یہ آنکھیں ملی ہیں اس کے لئے

    شب فراق کے گل رات بھر پرونے کو

    کچھ آنسوؤں سے ہی نکلے تو نکلے کام کوئی

    وہ داغ ہوں کہ سمندر بھی کم ہیں دھونے کو

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    محمد اعظم

    محمد اعظم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY