حق پرستی کے سزاوار ہوا کرتے تھے

تاشی ظہیر

حق پرستی کے سزاوار ہوا کرتے تھے

تاشی ظہیر

MORE BYتاشی ظہیر

    حق پرستی کے سزاوار ہوا کرتے تھے

    ہم کبھی صاحب کردار ہوا کرتے تھے

    کوئی مذہب ہو کوئی رنگ ہو مل بیٹھتے تھے

    دیس میں ایسے بھی تہوار ہوا کرتے تھے

    پاس تہذیب تھا اک وہ بھی زمانہ تھا کبھی

    میرے دشمن بھی مرے یار ہوا کرتے تھے

    اس طرح تھک کے تو بیٹھا نہیں کرتے تھے ہم

    راستے پہلے بھی دشوار ہوا کرتے تھے

    اب تو سوکھے ہوئے پتوں کا بھرم رکھتے ہیں

    ہم کبھی شاخ ثمر دار ہوا کرتے تھے

    پگڑیاں قدموں میں رکھنے کا ہنر سیکھ گئے

    ہم وہی ہیں جو سر دار ہوا کرتے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY