حق طلب کرتے ہوئے لوگوں کو فریادی کہیں
حق طلب کرتے ہوئے لوگوں کو فریادی کہیں
گر یہ آزادی ہے کیسے اس کو آزادی کہیں
چاند کو شب زاد کہہ دینے سے کب پوری ہوئی
بات پوری ہو جو ان صبحوں کو شب زادی کہیں
کتنے دھوکے باز ہیں لفظ و بیاں کے سلسلے
اپنی قبریں ڈھونڈتی لاشوں کو آبادی کہیں
دودھ کی نہریں بنانا اپنے اپنے گھر تلک
اور ستم یہ بھی کہ اس جذبہ کو فرہادی کہیں
آندھیوں سے لڑ رہے ہیں جنگ کچھ کاغذ کے لوگ
ہم پہ لازم ہے کہ ان لوگوں کو فولادی کہیں
صرف حسن و عشق کے دم سے یہ باقی ہے ابھی
آئیے دنیا کو حسن و عشق کی وادی کہیں
Subh Bakhair Zindagi
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.