حق وفا کے جو ہم جتانے لگے

الطاف حسین حالی

حق وفا کے جو ہم جتانے لگے

الطاف حسین حالی

MORE BYالطاف حسین حالی

    حق وفا کے جو ہم جتانے لگے

    آپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگے

    تھا یہاں دل میں طعن وصل عدو

    عذر ان کی زباں پہ آنے لگے

    ہم کو جینا پڑے گا فرقت میں

    وہ اگر ہمت آزمانے لگے

    ڈر ہے میری زباں نہ کھل جائے

    اب وہ باتیں بہت بنانے لگے

    جان بچتی نظر نہیں آتی

    غیر الفت بہت جتانے لگے

    تم کو کرنا پڑے گا عذر جفا

    ہم اگر درد دل سنانے لگے

    سخت مشکل ہے شیوۂ تسلیم

    ہم بھی آخر کو جی چرانے لگے

    جی میں ہے لوں رضائے پیر مغاں

    قافلے پھر حرم کو جانے لگے

    سر باطن کو فاش کر یا رب

    اہل ظاہر بہت ستانے لگے

    وقت رخصت تھا سخت حالیؔ پر

    ہم بھی بیٹھے تھے جب وہ جانے لگے

    RECITATIONS

    خالد مبشر

    خالد مبشر,

    خالد مبشر

    حق وفا کے جو ہم جتانے لگے خالد مبشر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے