ہر آدمی نے تہ دل سے دی دعا تجھ کو

کمال جعفری

ہر آدمی نے تہ دل سے دی دعا تجھ کو

کمال جعفری

MORE BYکمال جعفری

    ہر آدمی نے تہ دل سے دی دعا تجھ کو

    تمام شہر سے پھر بھی رہا گلہ تجھ کو

    بری لگے تو لگے اس میں کیا خطا میری

    جو بات کہنی تھی کہہ دی وہ برملا تجھ کو

    نہ جانے کون سی اس میں تھی مصلحت پنہاں

    کہ سچ بھی کہنے سے آنے لگی حیا تجھ کو

    ابھی تو ظلم کو اک فن سمجھ رہا ہے مگر

    کبھی تو ظلم کی دے گا خدا سزا تجھ کو

    تو بند رہتا ہے دن رات اپنے کمرے میں

    تو راس آئے گی کیا شہر کی فضا تجھ کو

    تو کور ذوق ہے کوئی پیام لے نہ سکا

    پکارتی رہی گلشن میں یوں صبا تجھ کو

    کمالؔ پر تو ستم ڈھا رہا ہے برسوں سے

    مگر وہ آج بھی کہتا ہے با وفا تجھ کو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY