ہر آہ سرد عشق ہے ہر واہ عشق ہے

امیر امام

ہر آہ سرد عشق ہے ہر واہ عشق ہے

امیر امام

MORE BYامیر امام

    ہر آہ سرد عشق ہے ہر واہ عشق ہے

    ہوتی ہے جو بھی جرات نگاہ عشق ہے

    دربان بن کے سر کو جھکائے کھڑی ہے عقل

    دربار دل کہ جس کا شہنشاہ عشق ہے

    سن اے غرور حسن ترا تذکرہ ہے کیا

    اسرار کائنات سے آگاہ عشق ہے

    جبار بھی رحیم بھی قہار بھی وہی

    سارے اسی کے نام ہیں اللہ عشق ہے

    محنت کا پھل ہے صدقہ و خیرات کیوں کہیں

    جینے کی ہم جو پاتے ہیں تنخواہ عشق ہے

    چہرہ فقط پڑاؤ ہیں منزل نہیں تری

    اے کاروان عشق تری راہ عشق ہے

    ایسے ہیں ہم تو کوئی ہماری خطا نہیں

    للہ عشق ہے ہمیں واللہ عشق ہے

    ہوں وہ امیر امام کہ فرہاد و قیس ہوں

    آؤ کہ ہر شہید کی درگاہ عشق ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY