ہر عکس خود ایک آئنہ ہے

رضا ہمدانی

ہر عکس خود ایک آئنہ ہے

رضا ہمدانی

MORE BYرضا ہمدانی

    ہر عکس خود ایک آئنہ ہے

    ہر سایہ زباں سے بولتا ہے

    احساس کی تلخیوں میں ڈھل کر

    دل درد کا چاند بن گیا ہے

    سنتا ہو کوئی تو ہر کلی کے

    کھلنے میں شکست کی صدا ہے

    یوں آتی ہے تیری یاد اب تو

    جیسے کوئی دور کی صدا ہے

    گویا تھے تو کوئی بھی نہیں تھا

    اب چپ ہیں تو شہر دیکھتا ہے

    عاجز ہے اجل بھی اس کے آگے

    جو مثل صبا بکھر گیا ہے

    تو سلسلۂ سوال بن کر

    کیوں ذہنوں کے بن میں گونجتا ہے

    قربت تری کس کو راس آئی

    آئینے میں عکس کانپتا ہے

    جیتے ہیں روایتاً رضاؔ ہم

    اس دور میں زندگی سزا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY