ہر بار ہی میں جان سے جانے میں رہ گیا

عمیر منظر

ہر بار ہی میں جان سے جانے میں رہ گیا

عمیر منظر

MORE BY عمیر منظر

    ہر بار ہی میں جان سے جانے میں رہ گیا

    میں رسم زندگی جو نبھانے میں رہ گیا

    آتا ہے میری سمت غموں کا نیا ہجوم

    اللہ میں یہ کیسے زمانے میں رہ گیا

    وہ موسم بہار میں آ کر چلے گئے

    پھولوں کے میں چراغ جلانے میں رہ گیا

    ساتھی مرے کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے

    میں زندگی کے ناز اٹھانے میں رہ گیا

    دار و رسن سجائے گئے جس کے واسطے

    اک ایسا شخص میرے زمانے میں رہ گیا

    بڑھتے چلے گئے جو وہ منزل کو پا گئے

    میں پتھروں سے پاؤں بچانے میں رہ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY