ہر بات یہاں بات بڑھانے کے لیے ہے

محبوب خزاں

ہر بات یہاں بات بڑھانے کے لیے ہے

محبوب خزاں

MORE BY محبوب خزاں

    ہر بات یہاں بات بڑھانے کے لیے ہے

    یہ عمر جو دھوکا ہے تو کھانے کے لیے ہے

    یہ دامن‌ حسرت ہے وہی خواب گریزاں

    جو اپنے لیے ہے نہ زمانے کے لیے ہے

    اترے ہوئے چہرے میں شکایت ہے کسی کی

    روٹھی ہوئی رنگت ہے منانے کے لیے ہے

    غافل تری آنکھوں کا مقدر ہے اندھیرا

    یہ فرش تو راہوں میں بچھانے کے لیے ہے

    گھبرا نہ ستم سے نہ کرم سے نہ ادا سے

    ہر موڑ یہاں راہ دکھانے کے لیے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY