ہر چوٹ پر زمانے کی ہم مسکرائے ہیں

حیرت سہروردی

ہر چوٹ پر زمانے کی ہم مسکرائے ہیں

حیرت سہروردی

MORE BYحیرت سہروردی

    ہر چوٹ پر زمانے کی ہم مسکرائے ہیں

    لیکن ترے خیال میں آنسو بہائے ہیں

    حد کو پہنچ گئی ہے مری نا مردیاں

    منزل کے پاس آ کے قدم ڈگمگائے ہیں

    اے زلف کائنات تجھے کیا خبر کہ ہم

    کن پیچ و خم سے چھٹ کے ترے پاس آئے ہیں

    اے جان کائنات ترے انتظار میں

    ہم نے کئی چراغ جلائے بجھائے ہیں

    جو چل پڑے تھے عزم سفر لے کے تھک گئے

    جو لڑکھڑا رہے تھے وہ منزل پہ آئے ہیں

    حیرتؔ نظام کہنہ کی تاریکیوں میں بھی

    ہم نے نظام تازہ کے دیپک جلائے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : urdu kii chunii hu.ii gazale.n (Pg. 31)
    • Author : devendra issar
    • مطبع : sahityaa parkaashak maalbaara delhi (1963)
    • اشاعت : 1963

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY