ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی

جون ایلیا

ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی

جون ایلیا

MORE BY جون ایلیا

    ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی

    پھر بھی محبت صرف مسلسل ملنے کی آسانی تھی

    جس دن اس سے بات ہوئی تھی اس دن بھی بے کیف تھا میں

    جس دن اس کا خط آیا ہے اس دن بھی ویرانی تھی

    جب اس نے مجھ سے یہ کہا تھا عشق رفاقت ہی تو نہیں

    تب میں نے ہر شخص کی صورت مشکل سے پہچانی تھی

    جس دن وہ ملنے آئی ہے اس دن کی روداد یہ ہے

    اس کا بلاؤز نارنجی تھا اس کی ساری دھانی تھی

    الجھن سی ہونے لگتی تھی مجھ کو اکثر اور وہ یوں

    میرا مزاج عشق تھا شہری اس کی وفا دہقانی تھی

    اب تو اس کے بارے میں تم جو چاہو وہ کہہ ڈالو

    وہ انگڑائی میرے کمرے تک تو بڑی روحانی تھی

    نام پہ ہم قربان تھے اس کے لیکن پھر یہ طور ہوا

    اس کو دیکھ کے رک جانا بھی سب سے بڑی قربانی تھی

    مجھ سے بچھڑ کر بھی وہ لڑکی کتنی خوش خوش رہتی ہے

    اس لڑکی نے مجھ سے بچھڑ کر مر جانے کی ٹھانی تھی

    عشق کی حالت کچھ بھی نہیں تھی بات بڑھانے کا فن تھا

    لمحے لا فانی ٹھہرے تھے قطروں کی طغیانی تھی

    جس کو خود میں نے بھی اپنی روح کا عرفاں سمجھا تھا

    وہ تو شاید میرے پیاسے ہونٹوں کی شیطانی تھی

    تھا دربار کلاں بھی اس کا نوبت خانہ اس کا تھا

    تھی میرے دل کی جو رانی امروہے کی رانی تھی

    مآخذ:

    • Book : gumaan (Pg. 159)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY