ہر دل جو ہے بیتاب تو ہر اک آنکھ بھری ہے

جاوید وششٹ

ہر دل جو ہے بیتاب تو ہر اک آنکھ بھری ہے

جاوید وششٹ

MORE BY جاوید وششٹ

    ہر دل جو ہے بیتاب تو ہر اک آنکھ بھری ہے

    انسان پہ سچ مچ کوئی افتاد پڑی ہے

    رہ رو بھی وہی اور وہی راہبری بھی

    منزل کا پتہ ہے نہ کہیں راہ ملی ہے

    مدت سے رہی فرش تری راہ گزر میں

    تب جا کے ستاروں سے کہیں آنکھ لڑی ہے

    ایسا بھی کہیں دیکھا ہے مے خانے کا دستور

    ہر چشم ہے لبریز ہر اک جام تہی ہے

    رخسار بہاراں پہ چمکتی ہوئی سرخی

    کہتی ہے کہ گلشن میں ابھی صبح ہوئی ہے

    سمجھا ہے تو ذرے کو فقط ذرۂ ناچیز

    چھوٹی سی یہ دنیا ہے جو سورج سے بڑی ہے

    دنیا میں کوئی اہل نظر ہی نہیں باقی

    کوتاہ نگاہی ہے تری کم نظری ہے

    مدہوش فضا مست ہوا ہوش کی مت پوچھ

    وارفتگئ شوق ہے اک گم شدگی ہے

    کانٹوں پہ چلے ہیں تو کہیں پھول کھلے ہیں

    پھولوں سے ملے ہیں تو بڑی چوٹ لگی ہے

    پھر سوچ لو اک بار ابھی وقت ہے جاویدؔ

    شکوے میں کچھ اندیشۂ خاطر شکنی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY