ہر ایک گام پہ صدیاں نثار کرتے ہوئے

شہزاد نیر

ہر ایک گام پہ صدیاں نثار کرتے ہوئے

شہزاد نیر

MORE BYشہزاد نیر

    ہر ایک گام پہ صدیاں نثار کرتے ہوئے

    میں چل رہا تھا زمانے شمار کرتے ہوئے

    یہی کھلا کہ مسافر نے خود کو پار کیا

    تری تلاش کے صحرا کو پار کرتے ہوئے

    میں رشک ریشۂ گل تھا بدل کے سنگ ہوا

    بدن کو تیرے بدن کا حصار کرتے ہوئے

    مجھے ضرور کنارے پکارتے ہوں گے

    مگر میں سن نہیں پایا پکار کرتے ہوئے

    میں اضطراب زمانہ سے بچ نکلتا ہوں

    تمہارے قول کو دل کا قرار کرتے ہوئے

    جہان خواب کی منزل کبھی نہیں آئی

    زمانے چلتے رہے انتظار کرتے ہوئے

    میں راہ سود و زیاں سے گزرتا جاتا ہوں

    کبھی گریز کبھی اختیار کرتے ہوئے

    نہیں گرا مری قاتل انا کا تاج محل

    میں مر گیا ہوں خود اپنے پہ وار کرتے ہوئے

    میں اور نیم دلی سے وفا کی راہ چلوں

    میں اپنی جاں سے گزرتا ہوں پیار کرتے ہوئے

    یقین چھوڑ کے نیر گماں پکڑتا رہا

    نگاہ یار ترا اعتبار کرتے ہوئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جاوید نسیم

    جاوید نسیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY