ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے

امیر قزلباش

ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے

امیر قزلباش

MORE BYامیر قزلباش

    ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے

    یہ زخم گھر سے نکل کر دکھائی دیتا ہے

    سنا ہے اب بھی مرے ہاتھ کی لکیروں میں

    نجومیوں کو مقدر دکھائی دیتا ہے

    اب انکسار بھی شامل ہے وضع میں اس کی

    اسے بھی اب کوئی ہمسر دکھائی دیتا ہے

    گرا نہ مجھ کو مرے خواب کی بلندی سے

    یہاں سے مجھ کو مرا گھر دکھائی دیتا ہے

    جہاں جہاں بھی ہے نہر فرات کا امکاں

    وہیں یزید کا لشکر دکھائی دیتا ہے

    خدا کے شہر میں پھر کوئی سنگسار ہوا

    جسے بھی دیکھیے پتھر دکھائی دیتا ہے

    امیرؔ کس کو بتاؤگے کون مانے گا

    سراب ہے جو سمندر دکھائی دیتا ہے

    RECITATIONS

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے خالد مبشر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY