ہر ایک شام کا منظر دھواں اگلنے لگا

امیر امام

ہر ایک شام کا منظر دھواں اگلنے لگا

امیر امام

MORE BYامیر امام

    ہر ایک شام کا منظر دھواں اگلنے لگا

    وہ دیکھو دور کہیں آسماں پگھلنے لگا

    تو کیا ہوا جو میسر کوئی لباس نہیں

    پہن کے دھوپ میں اپنے بدن پہ چلنے لگا

    میں پچھلی رات تو بے چین ہو گیا اتنا

    کہ اس کے بعد یہ دل خود بہ خود بہلنے لگا

    عجیب خواب تھے شیشے کی کرچیوں کی طرح

    جب ان کو دیکھا تو آنکھوں سے خوں نکلنے لگا

    بنا کے دائرہ یادیں سمٹ کے بیٹھ گئیں

    بوقت شام جو دل کا الاؤ جلنے لگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY