ہر ایک شخص کو اک طنطنے میں رکھتی ہے

خالد یوسف

ہر ایک شخص کو اک طنطنے میں رکھتی ہے

خالد یوسف

MORE BYخالد یوسف

    ہر ایک شخص کو اک طنطنے میں رکھتی ہے

    وہ بھانت بھانت کی مچھلی گھڑے میں رکھتی ہے

    تمام شہر کے دانشوروں کو وہ ظالم

    اسیر زلف کیے آسرے میں رکھتی ہے

    وہ گالیاں بھی اگر دے تو شعر و نغمہ لگے

    زباں میں لوچ عجب سر گلے میں رکھتی ہے

    اسے شراب طہوریٰ کا تذکرہ بھی گناہ

    یہ بات اور ہے سب کو نشے میں رکھتی ہے

    ہر اک کو درد کی لذت سے آشنا کر کے

    مزے میں رہتی ہے سب کو مزے میں رکھتی ہے

    سمجھ کے حق وہ ہر احسان بھول جاتی ہے

    مگر ہر ایک خطا حافظے میں رکھتی ہے

    اسے خبر ہے کہ انجام وصل کیا ہوگا

    وہ قربتوں کی تپش فاصلے میں رکھتی ہے

    سکوں کے سائے میں شاید اسے بھلا بیٹھے

    مدام شہر کو اک زلزلے میں رکھتی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Urdu Gazal ka Magribi Daricha (Pg. 313)
    • Author : Dr. Jawaz Jafri
    • مطبع : Kitab Saray, Lahore (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY