ہر اک قیاس حقیقت سے دور تر نکلا

فضا ابن فیضی

ہر اک قیاس حقیقت سے دور تر نکلا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    ہر اک قیاس حقیقت سے دور تر نکلا

    کتاب کا نہ کوئی درس معتبر نکلا

    نفس تمام ہوا داستان ختم ہوئی

    جو تھا طویل وہی حرف مختصر نکلا

    جو گرد ساتھ نہ اڑتی سفر نہ یوں کٹتا

    غبار راہ گزر موج بال و پر نکلا

    مجھے بھی کچھ نئے تیشے سنبھالنے ہی پڑے

    پرانے خول کو جب وہ بھی توڑ کر نکلا

    فضا کشادہ نہیں قتل گاہ کی یہ کہاں

    مرے لہو کا پرندہ اڑان پر نکلا

    وہ آدمی کہ جو محمل تھا آفتابوں کا

    بہ قدر یک دو کف خاک رہ گزر نکلا

    یہ رات جس کے لیے میں نے جاگ کر کاٹی

    ملا وہ شخص تو خوابوں کا ہم سفر نکلا

    اڑھا دی چادر عصمت اسے خیالوں نے

    ہر ایک لفظ زباں سے برہنہ سر نکلا

    فضاؔ تم الجھے رہے فکر و فلسفے میں یہاں

    بہ نام عشق وہاں قرعۂ ہنر نکلا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY