ہر کام یوں کرو کہ ہنر بولنے لگے

دنیش کمار

ہر کام یوں کرو کہ ہنر بولنے لگے

دنیش کمار

MORE BYدنیش کمار

    ہر کام یوں کرو کہ ہنر بولنے لگے

    محنت دکھے سبھی کو اثر بولنے لگے

    اس بے وفا سے بولنا توہین تھی مری

    لیکن یہ میرے زخم جگر بولنے لگے

    تہذیب چپ ہے علم و ادب آج شرمسار

    دیکھو پتا کے منہ پہ پسر بولنے لگے

    آنکھوں سے میں زبان کا ایسے بھی کام لوں

    جو بھی میں کہنا چاہوں نظر بولنے لگے

    سب ہم کو بت پرست سمجھتے رہے مگر

    ایسے تراشے ہم نے حجر بولنے لگے

    دیر و حرم کے نام پہ جب شہر بٹ گیا

    دونوں طرف سے تیغ و تبر بولنے لگے

    میں نے غزل سنائی ظفرؔ کی زمین میں

    سب دوست میرے مجھ کو ظفر بولنے لگے

    تو ہے دنیشؔ اور وہ ہے چودھویں کا چاند

    آپس میں کب سے شمس و قمر بولنے لگے

    مآخذ :
    • کتاب : Word File Mail By Salim Saleem

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY