ہر کسی کا ہر کسی سے رابطہ ٹوٹا ہوا

آفتاب اقبال شمیم

ہر کسی کا ہر کسی سے رابطہ ٹوٹا ہوا

آفتاب اقبال شمیم

MORE BYآفتاب اقبال شمیم

    ہر کسی کا ہر کسی سے رابطہ ٹوٹا ہوا

    آنکھ سے منظر خبر سے واقعہ ٹوٹا ہوا

    کیوں یہ ہم صورت رواں ہیں مختلف اطراف میں

    ہے کہیں سے قافلے کا سلسلہ ٹوٹا ہوا

    وائے مجبوری کہ اپنا مسخ چہرہ دیکھیے

    سامنے رکھا گیا ہے آئنا ٹوٹا ہوا

    خودبخود بدلے تو بدلے یہ زمیں اس کے سوا

    کیا بشارت دے ہمارا حوصلہ ٹوٹا ہوا

    خواب کے آگے شکست خواب کا تھا سامنا

    یہ سفر تھا مرحلہ در مرحلہ ٹوٹا ہوا

    کچھ تغافل بھی خبرداری میں شامل کیجیے

    ورنہ کر ڈالے گا پاگل واہمہ ٹوٹا ہوا

    مأخذ :
    • کتاب : Funoon (Monthly) (Pg. 299)
    • Author : Ahmad Nadeem Qasmi
    • مطبع : 4 Maklood Road, Lahore (Nov. Dec. 1985,Issue No. 23)
    • اشاعت : Nov. Dec. 1985,Issue No. 23

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY