ہر لمحے میں صدیوں کا افسانہ ہوتا ہے

سرفراز خالد

ہر لمحے میں صدیوں کا افسانہ ہوتا ہے

سرفراز خالد

MORE BYسرفراز خالد

    ہر لمحے میں صدیوں کا افسانہ ہوتا ہے

    گردش میں جب سانسوں کا پیمانہ ہوتا ہے

    ہم کو تو بس آتا ہے سانسوں کا کاروبار

    کیا کھونا ہوتا ہے اور کیا پانا ہوتا ہے

    دل کی ضد پر اس سے ملنا پڑتا ہے ہر روز

    اور پھر ساری دنیا کو سمجھانا پڑتا ہے

    آنکھیں بھر آتی ہیں میری ہنس لینے کے بعد

    شہر سے آگے اکثر ویرانہ پڑتا ہے

    گھر میں خواہش ہوتی ہے صحراؤں کو جائیں

    پھر کچھ سوچ کے رستے میں رک جانا ہوتا ہے

    روز کوئی پہنا دیتا ہے خوابوں کی پازیب

    اور پھر ناچ کے دنیا کو دکھلانا ہوتا ہے

    کھو دینا ہوتا ہے خود کو دن ہونے کے ساتھ

    شام ڈھلے تک پھر سے خود کو پانا ہوتا ہے

    پہلے ثابت ہوتا ہے اس سے ملنے کا جرم

    اور پھر مجھ پہ یادوں کا جرمانہ ہوتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY