ہر مرحلے سے یوں تو گزر جائے گی یہ شام

شاہد ماہلی

ہر مرحلے سے یوں تو گزر جائے گی یہ شام

شاہد ماہلی

MORE BYشاہد ماہلی

    ہر مرحلے سے یوں تو گزر جائے گی یہ شام

    لے کر بلائے درد کدھر جائے گی یہ شام

    پھیلیں گی چار سمت سنہری اداسیاں

    ٹکرا کے کوہ شب سے بکھر جائے گی یہ شام

    رگ رگ میں پھیل جائے گا تنہائیوں کا زہر

    چپکے سے میرے دل میں اتر جائے گی یہ شام

    ٹوٹا یقین زخمی امیدیں سیاہ خواب

    کیا لے کے آج سوئے سحر جائے گی یہ شام

    ٹھہرے گی ایک لمحے کو یہ گردش حیات

    تھم جائے گی یہ صبح ٹھہر جائے گی یہ شام

    خونیں بہت ہیں مملکت شب کی سرحدیں

    ہاتھوں میں لے کے کاسۂ سر جائے گی یہ شام

    مہکے گا لفظ لفظ سے شاہد دیار صبح

    لے کر مری غزل کا اثر جائے گی یہ شام

    مآخذ
    • کتاب : Aazadi ke baad dehli men urdu gazal (Pg. 203)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY