ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہے

عروج زیدی بدایونی

ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہے

عروج زیدی بدایونی

MORE BYعروج زیدی بدایونی

    ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہے

    چشم ساقی کی نوازش کا گماں ہوتا ہے

    یہ حجابات تعین مجھے منظور نہیں

    فکر آزاد کو بندش کا گماں ہوتا ہے

    لطف پیہم نہ سہی جور مسلسل ہی سہی

    ہر توجہ پہ نوازش کا گماں ہوتا ہے

    ان کے آگے لب اظہار پہ ہے مہر سکوت

    ایک خاموش پرستش کا گماں ہوتا ہے

    میں قفس میں ہوں قفس پیش نگاہ صیاد

    پر پرواز میں جنبش کا گماں ہوتا ہے

    صرف تم دل کی تباہی کا سبب کیا ہوتے

    بخت ناساز کی سازش کا گماں ہوتا ہے

    بات یہ کیا ہے عروجؔ ان کی ہر اک بات میں آج

    اپنی ہر طرز گزارش کا گماں ہوتا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : sheerazah (Pg. 44)
    • Author : makhmoor saeedi,Parem Gopal Mittal
    • مطبع : P -K Publication 3072 Partap stareet gola Market -Daryaganj delhi-6 (1973)
    • اشاعت : 1973

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY