ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ

حمایت علی شاعر

ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ

حمایت علی شاعر

MORE BY حمایت علی شاعر

    ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ

    دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ

    کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش

    جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ

    کتنے سادہ دل ہیں اب بھی سن کے آواز جرس

    پیش و پس سے بے خبر گھر سے نکل جاتے ہیں لوگ

    اپنے سائے سائے سرنہوڑائے آہستہ خرام

    جانے کس منزل کی جانب آج کل جاتے ہیں لوگ

    شمع کے مانند اہل انجمن سے بے نیاز

    اکثر اپنی آگ میں چپ چاپ جل جاتے ہیں لوگ

    شاعرؔ ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ

    ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نور جہاں

    نور جہاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY