ہر شخص اپنے آپ میں سہما ہوا سا ہے (ردیف .. ت)

حامد سروش

ہر شخص اپنے آپ میں سہما ہوا سا ہے (ردیف .. ت)

حامد سروش

MORE BYحامد سروش

    ہر شخص اپنے آپ میں سہما ہوا سا ہے

    دیکھو تو شہر سوچو تو ویرانیاں بہت

    لیٹا ہوا پنگوڑے میں تکتا ہے آسماں

    لکھی ہوئی ہیں آنکھوں میں حیرانیاں بہت

    زائیدگان شب کو گوارا نہیں سحر

    ڈستی ہیں ان کو صبح کی تابانیاں بہت

    دیں کیسے اس کا ہاتھ زمانے کے ہاتھ میں

    اب تک تو کی ہیں اس کی نگہبانیاں بہت

    پل بھر خوشی بھی ہم نے غنیمت شمار کی

    رہتی ہیں یوں بھی دل کو پریشانیاں بہت

    کن پتھروں سے ہم نے تراشے ہیں روز و شب

    کام آ گئیں ہماری گراں جانیاں بہت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY