ہر طرف حد نظر تک سلسلہ پانی کا ہے

عاصم واسطی

ہر طرف حد نظر تک سلسلہ پانی کا ہے

عاصم واسطی

MORE BYعاصم واسطی

    ہر طرف حد نظر تک سلسلہ پانی کا ہے

    کیا کہیں ساحل سے کوئی رابطہ پانی کا ہے

    خشک رت میں اس جگہ ہم نے بنایا تھا مکان

    یہ نہیں معلوم تھا یہ راستہ پانی کا ہے

    آگ سی گرمی اگر تیرے بدن میں ہے تو ہو

    دیکھ میرے خون میں بھی ولولہ پانی کا ہے

    ایک سوہنی ہی نہیں ڈوبی مری بستی میں تو

    ہر محبت کا مقدر سانحہ پانی کا ہے

    بے گنہ بھی ڈوب جاتے ہیں گنہ گاروں کے ساتھ

    شہر کے قانون میں یہ ضابطہ پانی کا ہے

    جانتا ہوں کیوں تمہارے باغ میں کھلتے ہیں پھول

    بات محنت کی نہیں یہ معجزہ پانی کا ہے

    اشک بہتے بھی نہیں عاصمؔ ٹھہرتے بھی نہیں

    کیا مسافت ہے یہ کیسا قافلہ پانی کا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہر طرف حد نظر تک سلسلہ پانی کا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY