ہر طرف اجلی دھنک موسم ہوا ہے برف برف

مسعود حساس

ہر طرف اجلی دھنک موسم ہوا ہے برف برف

مسعود حساس

MORE BYمسعود حساس

    ہر طرف اجلی دھنک موسم ہوا ہے برف برف

    ندی نالے ہی نہیں صحرا بنا ہے برف برف

    اڑ رہے ہیں روئی کے گالے فضاؤں میں اسیر

    ہے لہو بھی منجمد چہرہ ہوا ہے برف برف

    اک حسینہ کی سیہ زلفوں پہ جھالا یوں لگے

    ناگ کالا چھگ کے جیسے پی گیا ہے برف برف

    مسکرانا ایسے موسم میں کہاں آسان ہے

    ہونٹ نیلے پڑ گئے ہیں اس پر ہوا ہے برف برف

    برف کی چادر ہے یا پھر برف کا ہے ریگزار

    دیکھتا ہوں جس طرف عالم ہوا ہے برف برف

    جب کبھی حساسؔ برفانی ہوا تن پر لگی

    یاد آئی گاؤں کی آنسو پیا ہے برف برف

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY