ہرے ہیں زخم کچھ اس طرح بھی مرے سر کے

نبیل احمد نبیل

ہرے ہیں زخم کچھ اس طرح بھی مرے سر کے

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    ہرے ہیں زخم کچھ اس طرح بھی مرے سر کے

    تمام عمر اٹھائے ہیں ناز پتھر کے

    لہولہان ہوا ہے مرا بدن یوں بھی

    پکڑ نہ پایا کبھی ہاتھ میں ستم گر کے

    بس ایک حرف مقرر کے جرم میں ہم نے

    زباں پہ وار ہزاروں سہے ہیں خنجر کے

    وہ لوگ لایا گیا ہے جنہیں برابر میں

    کسی طرح بھی نہیں تھے مرے برابر کے

    کچھ ایسے زخم بھی سر کو جھکا کے کھائے ہیں

    جو مرے بخت کے تھے اور نہ تھے مقدر کے

    یہی اتاریں گے منزل پہ ایک دن مجھ کو

    یہ جتنے زخم ہیں پاؤں میں مرے ٹھوکر کے

    نبیلؔ آج وہ سر پہ سوار ہیں میرے

    جو لوگ گھر میں بسائے تھے میں نے باہر کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY