حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے

فیصل عجمی

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے

فیصل عجمی

MORE BYفیصل عجمی

    حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے

    پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے

    میں بھی رکتا ہوں مگر ریگ رواں کی صورت

    میرا ٹھہراؤ روانی کی طرح ہوتا ہے

    تیرے جاتے ہی میں شکنوں سے نہ بھر جاؤں کہیں

    کیوں جدا مجھ سے جوانی کی طرح ہوتا ہے

    جسم تھکتا نہیں چلنے سے کہ وحشت کا سفر

    خواب میں نقل مکانی کی طرح ہوتا ہے

    چاند ڈھلتا ہے تو اس کا بھی مجھے دکھ فیصلؔ

    کسی گم گشتہ نشانی کی طرح ہوتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY