حرف شکوہ نہ لب پہ لاؤ تم

آتش بہاولپوری

حرف شکوہ نہ لب پہ لاؤ تم

آتش بہاولپوری

MORE BYآتش بہاولپوری

    حرف شکوہ نہ لب پہ لاؤ تم

    زخم کھا کر بھی مسکراؤ تم

    اپنے حق کے لیے لڑو بے شک

    دوسروں کا نہ حق دباؤ تم

    سب اسے دل لگی سمجھتے ہیں

    اب کسی سے نہ دل لگاؤ تم

    مصلحت کا یہی تقاضا ہے

    وہ نہ مانیں تو مان جاؤ تم

    اپنا سایہ بھی اب نہیں اپنا

    اپنے سائے سے خوف کھاؤ تم

    موت منڈلا رہی ہے شہروں پر

    جا کے صحرا میں گھر بناؤ تم

    دوستوں کو تو خوب دیکھ چکے

    دشمنوں کو بھی آزماؤ تم

    راستی پہ مدار ہو جس کا

    اب نہ وہ بات لب پہ لاؤ تم

    جو بھلا مانگتے تھے سر بت کا

    ان بزرگوں کو پھر بلاؤ تم

    مأخذ :
    • کتاب : Jada-e-manzil (Pg. 28)
    • Author : Atish Bahawalpuri
    • مطبع : Nirali Duniya Publications (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY