حریم ناز کو ہم غیر کی محفل نہیں کہتے

واصف دہلوی

حریم ناز کو ہم غیر کی محفل نہیں کہتے

واصف دہلوی

MORE BYواصف دہلوی

    حریم ناز کو ہم غیر کی محفل نہیں کہتے

    رقیبوں پر مگر وہ کون تھا مائل نہیں کہتے

    جو رنج عشق سے فارغ ہو اس کو دل نہیں کہتے

    جو موجوں سے نہ ٹکرائے اسے ساحل نہیں کہتے

    اشارہ شمع کا سمجھا نہ پروانہ تو کیا سمجھا

    منار راہ کو اہل نظر منزل نہیں کہتے

    برنگ رشتۂ تسبیح دل سے راہ ہے دل کو

    بھٹک جائے جو اس جادے سے اس کو دل نہیں کہتے

    زلیخا کے وقار عشق کو صحرا سے کیا نسبت

    جو خود کھینچ کر نہ آ جائے اسے منزل نہیں کہتے

    مریض غم کی غفلت بھی کمال ہوشیاری ہے

    جو گم ہو جائے جلووں میں اسے غافل نہیں کہتے

    بھرم اس کا ہی اے منصور تو نے رکھ لیا ہوتا

    کسی کا راز اے ناداں سر محفل نہیں کہتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY