حسینوں کے ستم کو مہربانی کون کہتا ہے

عرش ملسیانی

حسینوں کے ستم کو مہربانی کون کہتا ہے

عرش ملسیانی

MORE BYعرش ملسیانی

    INTERESTING FACT

    (1929ء)

    حسینوں کے ستم کو مہربانی کون کہتا ہے

    عداوت کو محبت کی نشانی کون کہتا ہے

    یہ ہے اک واقعی تفصیل میری آپ بیتی کی

    بیان درد دل کو اک کہانی کون کہتا ہے

    یہاں ہر دم نئے جلوے یہاں ہر دم نئے منظر

    یہ دنیا ہے نئی اس کو پرانی کون کہتا ہے

    تجھے جس کا نشہ ہر دم لیے پھرتا ہے جنت میں

    بتا اے شیخ اس کوثر کو پانی کون کہتا ہے

    طریقہ یہ بھی ہے اک امتحان جذبۂ دل کا

    تمہاری بے رخی کو بد گمانی کون کہتا ہے

    بلا ہے قہر ہے آفت ہے فتنہ ہے قیامت کا

    حسینوں کی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے

    فنا ہو کر بھی حاصل ہے وہی رنگ بقا اس کا

    ہماری ہستئ فانی کو فانی کون کہتا ہے

    ہزاروں رنج اس میں عرشؔ لاکھوں کلفتیں اس میں

    محبت کو سرود زندگانی کون کہتا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Arsh (Pg. 48)
    • Author : Arsh Malsiyani
    • مطبع : Ali Imran Chaudhary

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY