Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حسرت ہو تمناؤں کا سیلاب ہو کیا ہو

فاروق جائسی

حسرت ہو تمناؤں کا سیلاب ہو کیا ہو

فاروق جائسی

MORE BYفاروق جائسی

    حسرت ہو تمناؤں کا سیلاب ہو کیا ہو

    تم زندہ حقیقت ہو کوئی خواب ہو کیا ہو

    جذبے کی صداقت ہو کہ احساس کی خوشبو

    تم شہر محبت کا حسیں باب ہو کیا ہو

    قدموں کی بھی آہٹ میں ہے اک ساز کی آواز

    بربط ہو کہ وینا ہو کہ مضراب ہو کیا ہو

    اے وعدۂ فردا کے سمندر مرے حق میں

    کشتی ہو کہ ساحل ہو کہ گرداب ہو کیا ہو

    مل جاؤ جسے اس کا چمک جائے مقدر

    تم ظل ہما ہو پر سرخاب ہو کیا ہو

    تم آؤ مرے گھر تو بتاؤ کہ سر فرش

    مخمل ہو کہ اطلس ہو کہ کمخواب ہو کیا ہو

    فاروقؔ کے ہاتھ آئے نہ تم ہو کے بھی نزدیک

    خوشبو ہو کہ سایہ ہو کہ سیماب ہو کیا ہو

    مأخذ:

    صدف رنگ (Pg. 47)

    • مصنف: فاروق جائسی
      • ناشر: فاروق جائسی
      • سن اشاعت: 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے