ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو

ندا فاضلی

ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو

ندا فاضلی

MORE BYندا فاضلی

    ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو

    اگر نہ ہو کہیں ایسا تو احتجاج بھی ہو

    رہے گی وعدوں میں کب تک اسیر خوشحالی

    ہر ایک بار ہی کل کیوں کبھی تو آج بھی ہو

    نہ کرتے شور شرابہ تو اور کیا کرتے

    تمہارے شہر میں کچھ اور کام کاج بھی ہو

    حکومتوں کو بدلنا تو کچھ محال نہیں

    حکومتیں جو بدلتا ہے وہ سماج بھی ہو

    بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں میں

    مرض پرانا ہے اس کا نیا علاج بھی ہو

    اکیلے غم سے نئی شاعری نہیں ہوتی

    زبان میرؔ میں غالبؔ کا امتزاج بھی ہو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY