ہوا چلے گی مگر ستارا نہیں چلے گا

جاوید انور

ہوا چلے گی مگر ستارا نہیں چلے گا

جاوید انور

MORE BY جاوید انور

    ہوا چلے گی مگر ستارا نہیں چلے گا

    سمندروں میں ترا اشارا نہیں چلے گا

    یہی رہیں گے یہ در یہ گلیاں یہی رہیں گی

    تمہی چلو گے کوئی نظارہ نہیں چلے گا

    شب سفر ہے ہتھیلیوں پر بھنور اگیں گے

    تمہارے ہمراہ اب کنارا نہیں چلے گا

    سنو کہ اب ہم گلاب دیں گے گلاب لیں گے

    محبتوں میں کوئی خسارہ نہیں چلے گا

    بہار مقروض ہے گھروں اور مقبروں کی

    گلوں پہ رستوں کا ہی اجارہ نہیں چلے گا

    مآخذ:

    • کتاب : Funoon (Monthly) (Pg. 234)
    • Author : Ahmad Nadeem Qasmi
    • مطبع : 4 Maklood Road, Lahore (25Edition Nov. Dec. 1986)
    • اشاعت : 25Edition Nov. Dec. 1986

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY