ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا

محسن نقوی

ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا

    کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا

    اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں

    بدن سے روح کا اس درجہ اشتراک ہوا

    یہی کہ سب کی کمانیں ہمیں پہ ٹوٹی ہیں

    چلو حساب صف دوستاں تو پاک ہوا

    وہ بے سبب یوں ہی روٹھا ہے لمحہ بھر کے لئے

    یہ سانحہ نہ سہی پھر بھی کرب‌ ناک ہوا

    اسی کے قرب نے تقسیم کر دیا آخر

    وہ جس کا ہجر مجھے وجہ انہماک ہوا

    شدید وار نہ دشمن دلیر تھا محسنؔ

    میں اپنی بے خبری سے مگر ہلاک ہوا

    مآخذ
    • کتاب : Urdu Adab (Pg. 59)
    • Author : Iqbal Hussain
    • مطبع : Iqbal Hussain Publishers (Jan, Feb. Mar 1996)
    • اشاعت : Jan, Feb. Mar 1996

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY