ہوا کے مد مقابل رہا کسی کے لیے

کوثر صدیقی

ہوا کے مد مقابل رہا کسی کے لیے

کوثر صدیقی

MORE BYکوثر صدیقی

    ہوا کے مد مقابل رہا کسی کے لیے

    میں وہ دیا ہوں جو شب بھر جلا کسی کے لیے

    ہمارے واسطے کوئی دعا کرے نہ کرے

    ہمارے پاس نہیں بد دعا کسی کے لیے

    ہوا کے خوف سے مت بیٹھ گھپ اندھیرے میں

    جلائے جا تو دیے پر دیا کسی کے لیے

    بچا کے شمع دل و جاں میں کس لیے رکھتا

    میں جل گیا سر راہ وفا کسی کے لیے

    نہ جانے آپ کا میزان عدل کیسا ہے

    کسی کو حکم رہائی سزا کسی کے لیے

    بہت بہانے تھے بجھنے کے واسطے کوثرؔ

    مگر میں خود کو جلاتا رہا کسی کے لیے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY