ہوا کے پاس بس اک تازیانہ ہوتا ہے

اسعد بدایونی

ہوا کے پاس بس اک تازیانہ ہوتا ہے

اسعد بدایونی

MORE BYاسعد بدایونی

    ہوا کے پاس بس اک تازیانہ ہوتا ہے

    اسی سے شہر و شجر کو ڈرانا ہوتا ہے

    وہ ساری باتیں میں احباب ہی سے کہتا ہوں

    مجھے حریف کو جو کچھ سنانا ہوتا ہے

    منافقوں میں شب و روز بھی گزارتا ہوں

    اور ان کی زد سے بھی خود کو بچانا ہوتا ہے

    کتاب عمر بھری جا رہی ہے لیکن کیوں

    نہ کوئی لفظ نہ چہرہ پرانا ہوتا ہے

    وہاں بھی مجھ کو خدا سر بلند رکھتا ہے

    جہاں سروں کو جھکائے زمانہ ہوتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے