ہوا کے تخت پر اگر تمام عمر تو رہا

علی اکبر ناطق

ہوا کے تخت پر اگر تمام عمر تو رہا

علی اکبر ناطق

MORE BYعلی اکبر ناطق

    ہوا کے تخت پر اگر تمام عمر تو رہا

    مجھے خبر نہ ہو سکی پہ ساتھ ساتھ میں بھی تھا

    چمکتے نور کے دنوں میں تیرے آستاں سے دور

    وہ میں کہ آفتاب کی سفید شاخ پر کھلا

    حجاب آ گیا تھا مجھ کو دل کے اضطراب پر

    یہی سبب ہے تیرے در پہ لوٹ کر نہ آ سکا

    وہ کس مکاں کی دھوپ تھی، گلی گلی میں بھر گئی

    وہ کون سبزہ رخ تھا جو کہ موم سا پگھل گیا

    کبھی تو چل کے دیکھو سائے پیپلوں کے دیس کے

    جہاں لڑکپنا ہمارے ہاتھ سے جدا ہوا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے