ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے

بہادر شاہ ظفر

ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے

بہادر شاہ ظفر

MORE BYبہادر شاہ ظفر

    ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے

    غرور چھوڑ دو اے غافلو خدا کے لیے

    گرا دیا ہے ہمیں کس نے چاہ الفت میں

    ہم آپ ڈوبے کسی اپنے آشنا کے لیے

    جہاں میں چاہیئے ایوان و قصر شاہوں کو

    یہ ایک گنبد گردوں ہے بس گدا کے لیے

    وہ آئینہ ہے کہ جس کو ہے حاجت سیماب

    اک اضطراب ہے کافی دل صفا کے لیے

    تپش سے دل کا ہو کیا جانے سینے میں کیا حال

    جو تیرے تیر کا روزن نہ ہو ہوا کے لیے

    طبیب عشق کی دکاں میں ڈھونڈتے پھرتے

    یہ دردمند محبت تری دوا کے لیے

    جو ہاتھ آئے ظفرؔ خاک پائے فخراؔلدین

    تو میں رکھوں اسے آنکھوں کے توتیا کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY