حواس لوٹ لیے شورش تمنا نے

فارغ بخاری

حواس لوٹ لیے شورش تمنا نے

فارغ بخاری

MORE BYفارغ بخاری

    حواس لوٹ لیے شورش تمنا نے

    ہری رتوں کے لیے بن گئے ہیں دیوانے

    بدلتے دیر نہیں لگتی اب حقیقت کو

    جو کل کی باتیں ہیں وہ آج کے ہیں افسانے

    ہے اب تو قطع تعلق کی ایک ہی صورت

    خدا کرے تو ہمیں دیکھ کر نہ پہچانے

    جو تیرے کوچے سے نکلے تو اک تماشہ تھے

    عجیب نظروں سے دیکھا ہے ہم کو دنیا نے

    سفر میں کوئی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں

    نہ مڑ کے دیکھا کبھی ساحلوں کو دریا نے

    خزاں نے دست بصارت کو ڈس لیا فارغؔ

    چلے تھے قافلۂ فصل گل کو ٹھہرانے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY