ہوس جلوہ نہیں ذوق تماشا بھی نہیں

شاذ تمکنت

ہوس جلوہ نہیں ذوق تماشا بھی نہیں

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    ہوس جلوہ نہیں ذوق تماشا بھی نہیں

    کسی چہرے پہ ترے چہرے کا دھوکا بھی نہیں

    غم گساری کی توقع نہ دلاسے کی امید

    کیا قیامت ہے کہ میں عشق میں رسوا بھی نہیں

    وہی مل بیٹھنا پہروں وہی احباب کی بزم

    خود فریبی کا بھلا ہو کہ میں تنہا بھی نہیں

    حسن سر تا پا تغافل ہے روایت کے نثار

    تجربہ اپنا یہ کہتا ہے کہ ایسا بھی نہیں

    سامنا ہو تو وہی بوجھ سا جیسے دل پر

    تم سے مانا کہ کسی بات کا پردا بھی نہیں

    آگے آگے کوئی مشعل سی لیے چلتا تھا

    ہائے اس شخص کا کیا نام تھا پوچھا بھی نہیں

    صرف خلوت کی ہے شوخی کہ ابھی تک اس نے

    شاذؔ کہہ کر مجھے محفل میں پکارا بھی نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Shaz Tamkanat (Pg. 128)
    • Author : Shaz Tamkanat
    • مطبع : Educational Publishing House (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY