ہوس کی دنیا میں رہنے والوں کو میں محبت سکھا رہا ہوں

بسمل سعیدی

ہوس کی دنیا میں رہنے والوں کو میں محبت سکھا رہا ہوں

بسمل سعیدی

MORE BYبسمل سعیدی

    ہوس کی دنیا میں رہنے والوں کو میں محبت سکھا رہا ہوں

    جہاں پہ دامن بچھے ہوئے ہیں وہاں پر آنکھیں بچھا رہا ہوں

    سرود غم پر بھی زندگی میں طرب کے دھارے بہا رہا ہوں

    میں ان کے ساز جفا پر اپنی وفا کے نغمے سنا رہا ہوں

    الٰہی دنیا میں اور کچھ دن ابھی قیامت نہ آنے پائے

    ترے بنائے ہوئے بشر کو ابھی میں انساں بنا رہا ہوں

    عدم کے تاریک راستے میں کوئی مسافر نہ راہ بھولے

    میں شمع ہستی بجھا کر اپنی چراغ تربت جلا رہا ہوں

    میں اپنی طرز جنوں کے صدقے مرا جنوں بھی عجب جنوں ہے

    کسی کا دامن پکڑ رہا ہوں کسی سے دامن چھڑا رہا ہوں

    ابھی تو آیا ہی تھا وہاں سے کبھی نہ جانے کا عہد کر کے

    مگر محبت زہے محبت ابھی وہیں سے پھر آ رہا ہوں

    ملی ہے کانٹوں کی مجھ کو قسمت مگر ہے پھولوں کی میری فطرت

    جہاں ہوں پامال غم ہوں لیکن جہاں بھی ہوں مسکرا رہا ہوں

    چلا ہے شوق سجود لے کر الٰہی یہ کس کے در کی جانب

    ابھی تو پہلا قدم اٹھا ہے ابھی سے میں سر جھکا رہا ہوں

    تری نظر کیا میں اپنے دل سے بھی گر کے جاتا ہوں انجمن سے

    جہاں کہ ہوتی ہے ختم دوری وہاں سے بھی دور جا رہا ہوں

    یہ کس کے کوچے میں گامزن ہوں یہ آستاں کس کا سامنے ہے

    میں اپنے قدموں پر آج بسملؔ سر دو عالم جھکا رہا ہوں

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-bismil Saeedi (Pg. 45)
    • Author : Bismil Saeedi
    • مطبع : Sahitya Akademi (2007)
    • اشاعت : 2007

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY