ہزار گردش شام و سحر سے گزرے ہیں

صوفی تبسم

ہزار گردش شام و سحر سے گزرے ہیں

صوفی تبسم

MORE BYصوفی تبسم

    ہزار گردش شام و سحر سے گزرے ہیں

    وہ قافلے جو تری رہ گزر سے گزرے ہیں

    ابھی ہوس کو میسر نہیں دلوں کا گداز

    ابھی یہ لوگ مقام نظر سے گزرے ہیں

    ہر ایک نقش پہ تھا تیرے نقش پا گماں

    قدم قدم پہ تری رہ گزر سے گزرے ہیں

    نہ جانے کون سی منزل پہ جا کے رک جائیں

    نظر کے قافلے دیوار و در سے گزرے ہیں

    رحیل شوق سے لرزاں تھا زندگی کا شعور

    نہ جانے کس لیے ہم بے خبر سے گزرے ہیں

    کچھ اور پھیل گئیں درد کی کٹھن راہیں

    غم فراق کے مارے جدھر سے گزرے ہیں

    جہاں سرور میسر تھا جام و مے کے بغیر

    وہ مے کدے بھی ہماری نظر سے گزرے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    صوفی تبسم

    صوفی تبسم

    مأخذ :
    • کتاب : sau-e-baar-e-chaman mahka (Pg. 129)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY