ہزار حیف چھٹا ساتھ ہم نشینوں کا

شاد عظیم آبادی

ہزار حیف چھٹا ساتھ ہم نشینوں کا

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    ہزار حیف چھٹا ساتھ ہم نشینوں کا

    مکاں تو ہے پہ ٹھکانا نہیں مکینوں کا

    کھلا جو باغ میں غنچہ ستارہ دار کھلا

    گلوں نے نقش اتارا ہے مہ جبینوں کا

    ہے اپنی اپنی طبیعت پہ حسن شے موقوف

    میں کیوں ہوں بندۂ بے دام ان حسینوں کا

    نظر کا کیا ہے بھروسہ نظر پہ ہیں پردے

    خیال عرش پہ جاتا ہے دوربینوں کا

    زمین شور ہو یا ہو زمین شعر اے دل

    نہیں ہے کوئی خریدار ان زمینوں کا

    بہشت دہر ہے اپنا وطن خدا کی قسم

    جدا جدا ہے ترانہ سبھی مہینوں کا

    کسی کو مان لیا دل نے جب تو مان لیا

    نہ دخل دو یہی مسلک ہے خوش یقینوں کا

    جو ہو مصور فطرت مثال کیا اس کی

    گماں نہ چاہیے انساں پہ آبگینوں کا

    ذرا نکل کے تو دنیا سے دیکھ اے انساں

    پتا نہ دن کا نہ انداز ہے مہینوں کا

    سکھا دیا مجھے بچ بچ کے راستہ چلنا

    خدا بھلا کرے اے شادؔ نکتہ چینوں کا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    ہزار حیف چھٹا ساتھ ہم نشینوں کا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY