ہزار ہم پر ستم کریں گے ہزار جور و جفا کریں گے
ہزار ہم پر ستم کریں گے ہزار جور و جفا کریں گے
نہ ہم نے ترک وفا کیا ہے کبھی نہ ترک وفا کریں گے
نہیں ہیں آساں وفا کی راہیں قدم قدم ہے نئی قیامت
خرد کہاں اپنے کام آئی جنوں کو اب رہنما کریں گے
نہ کوئی دشمن بجھا سکے ہیں نہ کوئی آندھی بجھا سکے گی
چراغ الفت کے اس جہاں میں جلا کئے ہیں جلا کریں گے
یہی پرستش ہے اب ہماری یہی ہے اب بندگی ہماری
جہاں بھی ہوں زلف و رخ کے سائے وہیں پہ سجدے کیا کریں گے
ہے دشمنوں سے بھی پیار ہم کو کہ دوستی ہے شعار اپنا
بچھائیں گے راہ میں جو کانٹے ہم ان کے حق میں دعا کریں گے
نہیں یہ عیش و طرب کی محفل مقام جہد و عمل ہے دنیا
انہیں کو جینے کا حق ملے گا جو زیست کا حق ادا کریں گے
پیامؔ ناکام ہیں تو کیا ہے نہیں ہے فطرت میں ناامیدی
کرم کی امید پر ہے جینا کبھی تو مہر و وفا کریں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.