ہزاروں سال سے میں جس کے انتظار میں تھا

احتشام اختر

ہزاروں سال سے میں جس کے انتظار میں تھا

احتشام اختر

MORE BYاحتشام اختر

    ہزاروں سال سے میں جس کے انتظار میں تھا

    وہ عکس خواب تو میرے ہی اختیار میں تھا

    وہ میری ذات کے پرتو سے ماہتاب ہوا

    وگرنہ کرۂ بے نور کس شمار میں تھا

    کوئی لگاؤ نہ تھا اب ہرے شجر سے مجھے

    میں برگ خشک تھا اڑتے ہوئے غبار میں تھا

    سفر میں یوں ہی جھلستا رہا خبر نہ ہوئی

    کہ ٹھنڈے پانی کا چشمہ بھی رہ گزار میں تھا

    میں بد گماں نہ کبھی اس سے ہو سکا اخترؔ

    عجب طرح کا مزہ اس کے جھوٹے پیار میں تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY