ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں

آسی الدنی

ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں

آسی الدنی

MORE BYآسی الدنی

    ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں

    مگر تصویر کو ہر حال میں تصویر پاتے ہیں

    بجھا دے اے ہوائے تند مدفن کے چراغوں کو

    سیہ بختی میں یہ اک بد نما دھبہ لگاتے ہیں

    مرتب کر گیا اک عشق کا قانون دنیا میں

    وہ دیوانے ہیں جو مجنوں کو دیوانہ بتاتے ہیں

    اسی محفل سے میں روتا ہوا آیا ہوں اے آسیؔ

    اشارے میں جہاں لاکھوں مقدر بدلے جاتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Noquush (Pg. B-327 E343)
    • مطبع : Nuqoosh Press Lahore (May June 1954)
    • اشاعت : May June 1954

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY