ہجرت بھی وہی نقل مکانی بھی وہی ہے

سحرتاب رومانی

ہجرت بھی وہی نقل مکانی بھی وہی ہے

سحرتاب رومانی

MORE BYسحرتاب رومانی

    ہجرت بھی وہی نقل مکانی بھی وہی ہے

    ہم خانہ بدوشوں کی کہانی بھی وہی ہے

    یہ شاعری کرنا کوئی آسان ہے یارو

    جو بات چھپانی ہے بتانی بھی وہی ہے

    کمرے میں ترے ہجر کے جالے بھی وہی ہیں

    دیوار پہ تصویر پرانی بھی وہی ہے

    گھر بھی ہے ابھی تک تری خوشبو سے معطر

    آنگن میں مرے رات کی رانی بھی وہی ہے

    آنکھوں میں ترا عکس لیے پیڑ کھڑے ہیں

    رستہ یہ وہی ہے یہ نشانی بھی وہی ہے

    بدلا نہیں کچھ بھی ہے وہی دشت نوردی

    اور عشق کے دریا کی روانی بھی وہی ہے

    محفل میں تجھے دیکھ کے خاموش ہوا ہوں

    ورنہ تو مری زود بیانی بھی وہی ہے

    اک شخص نے کیا مجھ کو خریدا کہ سحرؔ میں

    ارزاں ہوا ایسا کہ گرانی بھی وہی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY