حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت

عرش صدیقی

حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت

عرش صدیقی

MORE BY عرش صدیقی

    حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت

    ترے بغیر بھی جینے کی صورتیں ہیں ہیں

    ترے غرور کو ہم سے شکایتیں ہیں بجا

    ہم آدمی ہیں ہمیں پست عادتیں ہیں بہت

    جو تیری طرز جفا سے ہمارا حال ہوا

    زباں پہ لائیں یہ اس میں قباحتیں ہیں بہت

    اگر ہے باعث وحشت تجھے ہمارا جنوں

    ہمیں بھی تیری ادا سے شکایتیں ہیں بہت

    غلط کہ ملنے میں ہے فاصلے کا خوف تجھے

    کہ آج کل تو سفر میں سہولتیں ہیں بہت

    مجھے تو چھوڑ گیا راہ میں تو ٹھیک ہوا

    کہ پا شکستہ تھا میں اور مسافتیں ہیں بہت

    زبان کھول کے اس بزم میں خراب ہوئے

    سوال ایک تھا لیکن وضاحتیں ہیں بہت

    کسے سنیں تو کریں کس سے ہم گریز کہ یاں

    ہر اک زباں پہ غموں کی حکایتیں ہیں بہت

    ہمیں عذاب قیامت کا کوئی خوف نہیں

    کہ اس سے بڑھ کے جہاں میں قیامتیں ہیں بہت

    ملے یہ لوگ تو کیوں اور لوگ کیوں نہ ملے

    جواب کوئی نہیں ہے بجھارتیں ہیں بہت

    نہیں ہے آج کی تنہائیوں سے ہول ہمیں

    کہ دل پہ نقش جوانی کی صورتیں ہیں بہت

    کس احتیاط سے اے عرشؔ اس کو صرف کریں

    متاع عمر ہے کم اور چاہتیں ہیں بہت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY